ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میرے 10؍ بچے بھوکے مررہے ہیں: یاسین بھٹکل کی اہلیہ 

میرے 10؍ بچے بھوکے مررہے ہیں: یاسین بھٹکل کی اہلیہ 

Wed, 21 Dec 2016 11:22:09    S.O. News Service

زاہداہ اشادہ خان کسمپرسی کی زندگی جینے پر مجبور، کہا کہ ’’میری بڑی بیٹی بخار سے بے حال ہے، ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ، ہم اس دنیا کے نہیں ہیں۔ ‘‘ شوہر کو سزائے موت سنائے جانے سے بھی لاعلم، کہا کہ ’’ہمیں اکیلے رہنے دیجئے، ہمارے ساتھ زیادتی مت کیجئے۔‘‘

نئی دہلی، 20؍دسمبر(ایجنسی ) پیر 19؍ دسمبر کو جب حیدر آباد میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے یاسین بھٹکل اور ان کے دیگر 4ساتھیوں کو سزائے موت سنائی، تو یہ ہندوستانی اور بین الاقوامی میڈیا کیلئے بریکنگ نیوز سے کم نہیں تھی مگر دہلی میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور یاسین کی اہلیہ زاہدہ ارشاد خان اور ان کے 10؍ بچوں کو اس کی خبر نہیں تھی ۔ انہیں اس کی اطلاع اس وقت ہوئی جب برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کا نمائندہ ان کے گھر پہنچا ۔ 

اخبار کی رپورٹ کے مطابق 28؍ سالہ زاہدہ کے دروازے پر اگر شام دیر گئے دسکت ہو تو وہ گھبرا جاتی ہیں۔ جنوب مشرقی دہلی کے ابوالفضل انکلیو میں واقع ان کے گھر پر جب اخبار کے نمائندوں نے دستک دی اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی تو ان کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے دروازہ بند کر لیا اور گھر کے اندر کی تمام بتیاں بجھادیں۔ مگر جب اخبار کے رپورٹر نے زاہدہ کو اطلاع دی کہ ان کے شوہر کو سزائے موت سنائی گئی ہے تو پہلے تو حیران و پریشان رہ گئیں اور پھر خود پر ہی افسوس کرنے لگیں ۔ اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے لرزتی ہوئی آواز کے ساتھ زاہدہ نے بتایا کہ ’’ میرے پاس پیسہ نہیں ہے اور بچے بھوک کی وجہ سے دھیرے دھیرے مررہے ہیں۔ میری بیٹی بخار میں تپ رہی ہے، ہماری خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس کے برخلاف لوگ یہاں آکر مزید پریشانیاں کھڑی کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے ہمیں اکیلے رہنے دیجئے ہم اس دنیا کے نہیں ہیں۔ ‘‘ زاہدہ 10؍ بچوں کی پرورش کررہی ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے شوہر دہشت نہیں ہے۔ زاہدہ گڑ گڑ اتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’میرے شوہر بے گناہ ہیں اور ان کے اور ہمارے خاندان کے ساتھ زیادتی مت کرو۔‘‘

واضح رہے کہ یاسین بھٹکل جس کا اصل نام محمد احمد سدی باپا ہے، کے تعلق سے تفتیشی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم ’’انڈین مجاہدین ‘‘ کا بانی رکن ہے۔ اسے اگست 2013ء میں بہار میں ہند-نیپا سرحد پر گرفتار کر نے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس کی گرفتاری حیدرآباد کے دل سکھ نگر بم دھماکوں کے کیس میں ہوئی تھی۔ اس پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پیر کو مقدمے کا فیصلہ بھی آگیا مگر ڈیلی میل سے گفتگو کے دوران زاہدہ نے کیس کی پیش رفت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یاسین بھٹکل کی گرفتاری کے بعد سیکوریٹی اہلکار اکثر پوچھ تاچھ کیلئے آتے رہتے ہیں مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یاسین بھٹکل کو کہاں رکھا گیا ہے۔ 

گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے زاہد ہ کے پاس کمائیکا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے۔ وہ چندے کی پیسوں پر اپنا گھر چلاتی ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو شاید اپنے مرنے سے پہلے انہیں اپنے بچوں کو مرتا ہوا دیکھنا پڑے گا۔ زاہدہ پہلے ٹیوشن وغیرہ دے کر کچھ پیسے کما لیتی تھی مگر ٹیوشن بھی نہیں ملتا ۔ ان کے مطابق ’’میں کچھ نہیں کمارہی ہوں۔ میں روزی روٹی سے محروم ہوگئی ہوں۔ میں یاسین بھٹکل کی بیوی ہوں اس لئے کوئی اپنے بچوں کو اردو سیکھنے کیلئے میرے پاس نہیں بھیجتا ۔‘‘ چند برسوں قبل جب ان کی شناخت دہشت گردکی بیوی کے طور پر نہیں تھی تب وہ شاہین باغ میں ٹیوش پڑھا کر کچھ روپئے کما لیتی تھیں۔ بعد میں انہوں نے گھر پر ہی اردو پڑھانا شروع کردیا مگر شوہر پر دہشت گردی کا الزام عائد ہوجانے کے بعد لوگوں نے بچوں کو ٹیوشن کیلئے بھیجنا چھوڑ دیا اور انہیں الگ تھلگ کردیا گیا ۔ 

رپورٹ کے مطابق یاسین بھٹکل نے زاہدہ سے 2010ء میں شادی کی تھی۔ وہ انڈین مجاہدین کے رکن قرار دیئے گئے محمد ارشاد خان کی بیٹی ہیں۔ ارشاد کو 2011ء میں ہتھیاروں کی غیرقانونی فیکٹری چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ یاسین بھٹکل اسی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور خود کو عمران احمد بتایا تھا ۔ زاہدہ اور اس کی ماں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ارشاد اور یاسین دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ 


Share: